Wednesday, October 28, 2026
اشنغر ڈیجیٹل | Ashnaghar Digital Logo
چارسدہ میں نجی تعلیمی اداروں کی بندش کیخلاف مظاہرہ Home / پاکستان ,تعلیم /

چارسدہ میں نجی تعلیمی اداروں کی بندش کیخلاف مظاہرہ

چارسدہ میں نجی تعلیمی اداروں کی بندش کیخلاف مظاہرہ

چارسدہ میں نجی تعلیمی اداروں کی بندش کیخلاف مظاہرہ کرتے ہوئے شرکا نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دیئے، اور ساتھ ہی مطالبات پورے نہ کرنے پر پولیو مہم کے بائیکاٹ کی دھمکی دیدی۔چارسدہ میں نجی تعلیمی اداروں کو سیل کرنے کے خلاف پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پین) کے زیرِ اہتمام احتجاجی جلوس، واک اور مظاہرہ کیا گیا۔ نجی سکولوں کے نمائندوں نے ضلعی انتظامیہ کے اقدام کو تعلیم کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے اداروں کی بندش کا فیصلہ واپس لینے اور تعلیمی اداروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے ڈی سی آفس چارسدہ کے سامنے بھی احتجاج کیا، جبکہ مردان روڈ پر ہونے والے مظاہرے اور واک میں نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ احتجاج سے پین چارسدہ کے صدر نفیس اللہ، طاہر آمین، فواد احمد، سرور شاہ اور دیگر رہنماں نے خطاب کیا۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایک سکول میں پیش آنے والے واقعے کی آڑ میں چارسدہ کے نجی تعلیمی اداروں کو سیل کرنا مناسب اقدام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہوگی اور والدین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔رہنماں نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور بچوں کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ نجی سکولوں کے خلاف کارروائیوں کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے اور تعلیمی ماحول بہتر بنانے پر توجہ دے۔پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے رہنماں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نجی تعلیمی اداروں کی تعمیر و مرمت اور حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ سکول مطلوبہ سہولیات اور حفاظتی تقاضے پورے کر سکیں۔مقررین کے مطابق، نجی تعلیمی ادارے تعلیم کے شعبے میں حکومت کے ساتھ تقریبا 60 فیصد رضاکارانہ تعاون کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے انہیں مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔رہنماں نے کہا کہ وہ بچوں کو محفوظ اور پرامن تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ ان کے مطابق، تعلیمی اداروں کے مسائل بات چیت اور باہمی مشاورت سے حل کیے جانے چاہییں تاکہ طلبہ کی تعلیم کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔مقررین نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ نجی سکولوں کی بندش سے متعلق فیصلوں پر نظرثانی کی جائے اور تعلیمی اداروں کے تحفظات دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو نجی تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ رہنماں نے یہ بھی کہا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں نجی تعلیمی ادارے پولیو مہم میں تعاون نہیں کریں گے۔